Skip to main content

اس ملک میں جب ایک بار کوئی منتخب ہوگیا تو ہوگیا

 


اس ملک میں جب ایک بار کوئی منتخب ہوگیا تو ہوگیا

جن کے ہاتھوں میں ہماری نسلوں کا مستقبل ہے انہیں ووٹ ڈالنا نہیں آتا

ایاز خان، طاہر اشرفی، عامر الیاس رانا، فیصل حسین، محمد الیاس، ثاقب ورک کا ایکسپرٹس میں گفتگو

لاہور میں روزنامہ ایکسپریس کے گروپ ایڈیٹر ایاز خان نے کہا ہے کہ مجھے بہت دیر تک سکرین پر برداشت کرنے کا شکریہ، ایکپریکس نیوز کے پروگرام میں میزبان دعاجمیل سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا ہے کہ چونکہ حکومت نے اعلان کیا ہوا تھا کہ ہم نے ہر حال میں جیتنا ہے، آخر میں یہی نظر آیا کہ وہ اپنے امیدواروں کو جتوانے میں کامیاب ہوگئے ہیں۔ اب مجھے صورتحال مختلف لگ رہی ہے، یوسف رضاگیلانی کے ووٹ مسترد ہوئے ہیں جبکہ ڈپٹی چیئرمین کے الیکشن میں ووٹ مسترد نہیں ہوئے یاتو سنیٹرز کو پہلا ووٹ مسترد ہونے کے بعد سمجھ آگئی تھی یا پھر یہ طے تھا کہ یہی ووٹ مسترد کردئیے جائیں گے۔ اور ادھر مسترد نہیں کئے جائیں گے۔ اس ملک میں جب کوئی ایک بار منتخب ہوگیا تو ہوگیا۔ کیونکہ یہاں تو ہم نے پانچ پانچ سال سٹے پر حکومتوں کو چلتے دیکھا ہے۔ حافظ طاہر محموداشرفی نے کہا کہ اگر یوسف گیلانی کی جیت جمہوریت کی جیت تھی تو یہ بھی جمہوریت کی جیت ہے تو پھر رو کیوں رہے ہو؟ مرزا محمد آفریدی کا ذاتی تعلق ہے اس لئے انہیں لوگوں نے ووٹ دیا۔ عامر الیاس رانا نے کہا ایاز صاحب کا شکریہ کہ انہوں نے میرے تجزئے کوتسلیم کیا، ایاز صاحب کے ذہن میں تھا کہ شاید بیلنس رکھنے کے لئے لیا جائے گا ایک اور بات کلیئر ہوگئی کہ کہیں سنجرانی صاحب کسی عدالت میں پھنس ہی نہ جائیں۔


Comments

Popular posts from this blog

Jazz offer 500 mb

 

Free youtube on zong sim

What is Hajab?

حجاب ایک نظریہ ہے حجاب صرف کپڑے کے ایک ٹکڑے کا نام نہیں ہے، حجاج ایک تہذیب، ایک نظریہ زندگی ہے، ایک رویے کا نام ہے حجاب، جس کی غایت پاکیزگی ہے، جس کی ابتدا ہوتی ہے تخیل کی پاکیزگی سے، اس میں انسان اپنے پروردگار کی عظمت کا ادارک کرتا ہے اور اپنے مقام کا اعتراف کرکے خود کو مالک کی اطاعت میں محدود کرلیتا ہے، اور ان حدود کے باہر ایسے حجاب ڈال لیتا ہے جن کے پار دیکھنا تک گناہ سمجھتا ہے، چہ جائیکہ وہاں قدم رکھنے کا ارداہ کرے، اس لئے شرک سے جو چیز بچاتی ہے وہ بھی حجاب ہے اپنی اوقات اور حثیت کا ادارک ہونے کے بعد انسان کبھی خودکو مختارنہیں سمجھتا ہے کبھی جیسے چاہو چاہے جیو کا خیال تک اس کو نہیں آتا، رزق حرام کمانے اور کھانے، دونوں سے بچنے کی طاقت بھی حجاب ہے، حرام کھانے سے انسان اسی وقت تک رکتا ہے جب اللہ کے سامنے کھڑے ہونے سے یاتو شرماتا ہے یا اس کی سزاؤں سے ڈرجاتا ہے، تو یہ شرم اور خوف رکاوٹ بن جاتے ہیں اور یہی حجاب ہے۔ حجاب ایک طرززندگی ہے جس میں قوت ہے فواحش ومنکرات سے روکنے کی، غضِ بصر ہو یا الفاظ کا چناؤ، گھرمیں چاردیواری ہو یا کھڑکیوں پر پردے، مردوں کا کھنکھار کر گھر داخل ہونا ہو یا بی...